Skip to product information
1 of 10

Tanjally - Sheharyar Ahmad Khan

Tanjally - Sheharyar Ahmad Khan

Regular price Rs. 1,600.00
Regular price Rs. 1,600.00 Sale price Rs. 1,600.00
Sale Sold out
Shipping calculated at checkout.
لکھنا چاہیے کہ سماج اپنے ڈھانچے میں تبدیلی کی کس طرح مزاحمت کرتا ہے اور وہ چند لوگ جو نئی اقدار، نئی سوچ یا اک نیا شعور پالیتے ہیں کیونکر منافقانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
لکھنا چاہیے کہ معاشرتی اور اخلاقی اقدار کے زوال نے انسانیت کی کس حد تک تذلیل کر رکھی ہے۔
لکھنا چاہیے کہ کبھی نہ کبھی تو وہ نظام جنم لے گا جو دولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کرے گا اور عدم مساوات کا خاتمہ بھی۔
لکھنا چاہیے کہ مستقبل تابناک اور سہانا ہے گو کہ آج یہ بات صرف افسانوی ہی لگتی ہے۔
لکھنا چاہے، انسان کو جو وہ محسوس کرے۔ لکھ دینا چاہیے تاکہ اور لوگ بھی جان سکیں کہ آپ کے احساسات کیا ہیں۔ شاید لوگ اس سے بھی کچھ سیکھ سکیں جیسے ہم دوسری علمی کتابوں سے سیکھتے ہیں۔
مختلف انسان ایک ہی واقع کو مختلف طرح سے محسوس کرتے ہیں۔ یہیں سے یہ گھتی شروع ہوتی ہے کہ محبت کی کوئی ایک تعریف کیوں نہیں۔ اس کی کیوں اتنی شکلیں ، روپ اور لباس ہیں۔ محبت ایک احساس ہے جو کوئی بھی لبادہ اوڑھ سکتا ہے۔
پھر محبت میں وصال کا تجربہ بھی ہر شخص کا مختلف ہوتا ہے۔ وصل کے لمحوں میں انسان جسمانی اور ذہنی آسودگی کے ساتھ ساتھ کچھ اُس سے ماورا بھی محسوس کرتے ہیں، کسی کائناتی راز کی قربت اور ہجر کا احساس بھی ایک قہر بھرا وقت ہی لگتا ہے۔ کسی کو تھوہر کا کانٹے دار پھل اور کسی کو گرم ریت پر آبلہ پائی جیسا اور ہجر میں بھی شاید اپنی ذات کی پہچان مکمل ہوتی ہے۔
بات صرف عشق، محبت وصل اور ہجر تک محدود نہیں۔ دوسرے انسانی جذبے بھی جیسے نفرت، حسد، اَنا، غصہ، بدلہ لینا اور معاف کرنابھی ہماری زندگیوں اور شخصیتوں کو شکل دیتے ہیں۔ 
اور موت تو ، لکھنا چاہیے کہ ایک ازلی اور ابدی حقیقت ہے اور یہ زندگی، ایک نایاب تحفہ۔ اس تحفے کو سارا اپنے تصرف میں رکھیںیا کچھ حصہ اور وں میں تقسیم کر دیں، بانٹ دیں، یہ آپ کی مرضی پر منحصر ہے۔ 
میں ان سارے احساسات اور جذبوں کے بارے میں ایک الگ رائے رکھتا ہوں اور میرا سامنا جب ان جذبات کے ساتھ ہوتا ہے یا جب میرے مشاہدے میں آتے ہیں یا جب میرا ان سے واسطہ پڑتا ہے، تو میں بے اختیار ہو کر قلم اُٹھا لیتا ہوں اور وہ کچھ بھی لکھ دیتا ہوں جو لوگ دیکھ نہیں پا رہے ہوتے باوجودیکہ وہ سب کچھ ان کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ ایسے میں مجھے لکھنے پر کوئی افسوس نہیں ہوتا اور مجھے معذرت خواہنانہ رویہ اپنانے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔
بہرحال یہ میرے مشاہدے میں، تجربے ہیں اور میرے جذباتی ردعمل جن کو میں اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔

شہریار
دسمبر 2025

 



Title: Tanjally 

Author: Sheharyar Ahmad Khan

Subject: Urdu Literature

ISBN: 969353770X

Year: 2026

Language: Urdu

Number of Pages: 173

Publisher: Sang-e-Meel Publications, Lahore.

View full details