Qaidion Ki Mumlikat - Asghar Nadeem Syed
Qaidion Ki Mumlikat - Asghar Nadeem Syed
Couldn't load pickup availability
Title: Qadio'n Ki Mumlikat
Author: Asghar Nadeem Syed
Subject: Urdu Literature
ISBN: 9693536770
Year: 2025
Language: Urdu
Number of Pages: 280
Publisher: Sang-e-Meel Publications, Lahore.

قیدیوں کی مملکت از اصغر ندیم سید
یہ اصغر ندیم سید کا چوتھا ناول ہے۔ تقریباً تین سو صفحات پر مشتمل اس ناول کو سنگ میل پبلیکیشنز نے احسن انداز سے شائع کیا ہے اور اسکی قیمت دو ہزار روپے ہے۔
مابعد جدیدیت کے عین اصولوں کے مطابق یہ ناول بے شناخت کرداروں کی گفتگو سے شروع ہوتا ہے اور تقسیم ہند کے مہابیانیے کی نفی کرتا ہے اور دور حاضر میں ہونے والے واقعات پر بے لاگ تبصرہ ہے۔ سید صاحب کو جلال آجاتا ہے۔ زبان اتنی بے باک ہے کہ حسن نثار یاد آجاتے ہیں۔ موجودہ صدی میں امریکہ کا افغانستان میں آنا اور جانا دونوں بہت اہم واقعات تھے۔ کیونکہ سید صاحب اشتراکی تربیت یافتہ بندے ہیں تو وہ اس حقیقت کو اسی عینک سے دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔ اور ساتھ میں معلم بھی ہیں جو کہ جا بجا ادبی فنکار پر حاوی ہوجاتا ہے اور تعلیم دینے لگتا ہے۔
جیسے جیسے ناول آگے بڑھتا ہے روایتی ناول علامتی ناول میں ڈھلتا ہے۔ اور یہی سے ہمیں مستنصر حسین تارڑ اور انتظار حسین کی یاد آنے لگتی ہے۔ لیکن یہ میدان سید صاحب کے لیے بہرحال ناول کی حد تک نیا ہے۔ کیونکہ سید صاحب شاعر بھی ہیں تو انکی نثر آزاد نظم کی طرح لگتی ہے۔ کرشن چندر یاد آجاتے ہیں۔
کارل مارکس نے کہا تھا کہ
"دنیا بھر کے مزدوروں، ایک ہو جاؤ!"
(Workers of the world, unite!)۔
سید صاحب نے اسی طرز پر تمام قیدیوں کی مملکت کا خواب دیکھا ہے جو ریاستی جبر کا شکار ہوئے۔ پوری بیسویں صدی جنگوں کے اثرات سے آزاد نہیں ہوسکی بلکہ نئی صدی کا آغاز میں جنگوں سے ہوا اور آج بھی دنیا میں جنگ جاری ہے بلکہ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اور ان جنگوں کے نتیجے میں جو بھی قید ہوئے وہ سید صاحب کی مملکت میں شامل ہیں۔ ان میں وہ ادیب بھی شامل ہیں جنھوں نے ریاست کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ اور نوآبادیات کے خلاف رہے ہیں۔ سید صاحب اس میں جوزف کونراڈ، طاہر بن جیلون اور اشفاق احمد کا نام شامل کرتے ہیں۔ اشفاق احمد اس قبیل کا حصہ نہیں ہے لیکن کیونکہ وہ کہانی کو گود لینے کا فن جانتے ہیں اس لیے سید صاحب نے انکو یاد رکھا ہے۔
سید صاحب نے استعارہ کے طور پر فلموں کے نام بھی شامل کیے۔ کیونکہ انکا طویل وقت شوبز میں گزرا ہے۔ اور فلم کو بطور مضمون یہ پڑھاتے بھی رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انکی دل میں بطور لکھاری فلم تحریر کرنے کی شدید خواہش تھی جو آج حسرت بن گئی ہے۔ فلم فنون لطیفہ کی معراج ہے خاص کر جہاں تک پرفارمنگ آرٹس کا تعلق ہے۔ اور یہ خواہش کوئی ایسی ناجائز بھی نہیں۔ مستنصر حسین تارڑ، مرزا اطہر بیگ اور سید کاشف رضا کی فلم بینی تو سب پر عیاں ہیں۔
ناول اپنے آخری حصے میں مکمل طور پر علامتی ہوجاتا ہے۔ اور سید صاحب کو لگتا ہے عابد حسن منٹو کی طرح کہ اشتراکی نظام ناکام نہیں ہوا بلکہ جب اسکے پیروکار نے مارکس کی اصل فلسفے اور تعلیمات سے انحراف کیا تو یہ نظام ناکام ہوگیا۔ اسامہ صدیق کے دوسرے ناول بھی یہی مسئلہ ہوگیا کہ ناول استعاری زبان میں معاشرے پر تنقید کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے ایسا صرف زیب داستان کے لیے ایسا کیا ہے یا کوئی اور رمز ہے۔
چند سوالات کے جوابات سید صاحب نے نہیں دئیے جیسے روس نے افغانستان پر حملہ کیوں کیا؟ ریاستی جبر اپنی جگہ لیکن جب کبھی اشتراکیوں کو اقتدار ملا تو انہوں نے سرمایہ دارانہ ممالک سے کیسے بہتر کام کیا؟ اور مارکس کے منافقین کون تھے؟ یقیناً علامہ اقبال کی طرح سرمایہ دارانہ نظام کا سفینہ ڈوبنے کے منتظر ہیں لیکن ڈوبتا نہیں ہے۔ اور اشتراکی نظام کی تنقید کے بعد سرمایہ داری نے خود کو کتنا بدلا ہے اسکا جواب
(Five Ideas That Changed the World)
معروف ماہرِ معاشیات اور مصنفہ باربرا وارڈ (Barbara Ward) کی کتاب میں ملتا ہے۔
آخری بات مملکت خداداد میں آزادی رائے نہیں ہے اور ریاستی جبر ہے۔ یہ بات اپنی جگہ پر وزن رکھتی ہے لیکن سید صاحب کی تحریر پڑھ کر یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ ایسا لکھنا بھی آسان نہیں ہے۔ سنسر شپ تو بعد میں ہوگی پہلے ایسا لکھیں تو بات بنے۔ اس سے بھی مشکل ہے پاکستانی معاشرے کو کتاب پڑھانا ہے خاص طور سنجیدہ ادب۔ آئی ٹی انقلاب کے بعد سے اردو کا سنجیدہ ادب؛ میرے خیال سے؛ قارئین کی کمی کا شکار ہوا ہے۔
ناول میں نہ تو روایتی پلاٹ ہے اور نہ کردار۔ اگر آپ ان دونوں کی تلاش میں ہیں تو یہ ناول آپ کے لیے نہیں ہے۔ لیکن آپ انتظار حسین، مستنصر حیسن تارڑ اور مرزا اطہر بیگ کو پڑھ چکے ہیں تو یہ ناول بھی آپ آسانی سے پڑھ سکتے ہیں۔ بہرحال پڑھیں اور خود آراء قائم کریں۔
از Faisal Majeed