Skip to product information
1 of 4

Band Darwaza - Dr. Muhammad Humayun

Band Darwaza - Dr. Muhammad Humayun

Regular price Rs. 1,350.00
Regular price Rs. 1,800.00 Sale price Rs. 1,350.00
Sale Sold out
Shipping calculated at checkout.

Title: Band Darwaza
Author: Dr. Muhammad Humayun
Subject: Fiction, Short Stories
ISBN: 9693536223
Language: Urdu
Number of Pages: 256
Year of Publication: 2025

View full details
BookBand darwazaHumayunLiteratureNarrativesOnePas e deewarSarkar baname kharStyleWork
  • 5 stars: 12 (100%)
  • 4 stars: 0 (0%)
  • 3 stars: 0 (0%)
  • 2 stars: 0 (0%)
  • 1 star: 0 (0%)
Z
Zia Ullah Khawaja
Awesome

Second book by the author…well thought out themes based on common societal issues. The signature short story Band Darwaza takes the icing. Attention to details by the author in description of characters and situations is epic. It is indeed incredible that despite being a busy consultant Gastroenterologist he still finds time to significantly contribute to Urdu literature

D
Dr Khalid Umar (Surati) from India
Band Darwaza by Dr. Humayun

Band Darwaza by Dr. Humayun is a compelling collection of twelve short stories that offer a profound exploration of religious, political, and social themes. Each story is deeply layered, delivering strong messages about the values and challenges of modern society. Dr. Humayun expertly blends complex subjects with engaging storytelling, creating narratives that are both thought-provoking and accessible. The stories tackle a wide range of issues, from the tension between tradition and modernity to the moral dilemmas that individuals face in their everyday lives, urging readers to reflect on the world around them.

The book is beautifully written, combining classic and modern language to create a unique narrative style that appeals to a diverse audience. Dr. Humayun's seamless integration of traditional prose with contemporary expression adds a special charm to the collection, making it timeless and relatable. Through these stories, he masterfully highlights societal issues with sensitivity and insight, inviting readers to question the status quo. Band Darwaza is a must-read for those seeking a thought-provoking literary work that offers both intellectual depth and artistic beauty.

The publication of Band Darwaza by Sange Meel Publications deserves special mention. Known for their excellence in publishing, Sange Meel has once again delivered a beautifully produced book, with careful attention to detail in both the quality of the print and the presentation. Well done!!!!

ڈ
ڈاکٹر سیدہ زینب بتول
ریویو: ’’بند دروازہ‘‘ از ڈاکٹر ہمایوں – سنگ میل پبلیکیشنز

ڈاکٹر ہمایوں کی کتاب ’’بند دروازہ‘‘، جو سنگ میل پبلیکیشنز سے شائع ہوئی ہے، اردو افسانے کی دنیا میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ یہ مجموعہ محض کہانیوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ معاصر سماجی، سیاسی اور تہذیبی تضادات کا آئینہ ہے جو قاری کو نہ صرف جھنجھوڑتا ہے بلکہ سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے۔

اس کتاب کا نمایاں افسانہ ’’کھمبا‘‘، جو آرام باغ کراچی کے پس منظر میں رقم کیا گیا ہے، ایک گہرے استعارے کے طور پر سامنے آتا ہے۔ کھمبا، جو بظاہر ایک سادہ سا بجلی کا ستون ہے، دراصل کراچی کے ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں روزمرہ کی زندگی کا ہجوم، بے حسی اور سیاست کی دھند ایک دوسرے میں گھل چکی ہے۔ ڈاکٹر ہمایوں نے اس کہانی میں نہایت باریکی سے موجودہ سیاسی نظام کی بوسیدگی، طبقاتی ناانصافی، اور طاقت کے ارتکاز کی تصویر کشی کی ہے۔

کھمبا محض ایک جامد شے نہیں، بلکہ کہانی میں ایک خاموش گواہ بن کر ابھرتا ہے جو برسوں سے ظلم، احتجاج، شورش، اور امید کے مناظر دیکھتا آیا ہے۔ ڈاکٹر ہمایوں کا قلم یہاں ایک مؤرخ کا کام کرتا ہے، جو ایک غیر جانبدار چیز کی زبان سے سیاسی تباہ کاریوں اور عام آدمی کی بے بسی کو بیان کرتا ہے۔

افسانے کی سب سے بڑی خوبی اس کی علامتی گہرائی ہے۔ کھمبا وہ استعارہ ہے جو ایک طرف ریاستی طاقت اور اس کے جمود کی نمائندگی کرتا ہے، اور دوسری طرف وہ ان دیکھے خوابوں اور دبے ہوئے جذبات کا بھی غماز ہے جو عوام کے دلوں میں پلتے ہیں۔

ڈاکٹر ہمایوں کی نثر سادہ مگر گہرے مفہوم کی حامل ہے۔ وہ پیچیدہ موضوعات کو سادگی سے بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کے کردار جیتے جاگتے انسان ہیں، جن کی بولی، حرکات، اور خیالات ہمیں اپنے آس پاس کے لوگوں کی یاد دلاتے ہیں۔

’’بند دروازہ‘‘ نہ صرف ایک کامیاب افسانوی مجموعہ ہے بلکہ ہمارے عہد کے اجتماعی شعور کی بازگشت بھی ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے خاص طور پر قابلِ مطالعہ ہے جو ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کا آلہ سمجھتے ہیں

سنگ میل پبلیکیشنز نے ’’بند دروازہ‘‘ جیسے اہم اور بامعنی افسانوی مجموعے کو شائع کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف ادبی معیار کا خیال رکھتے ہیں بلکہ ایسے موضوعات اور مصنفین کو بھی فروغ دیتے ہیں جو سماجی شعور بیدار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اردو ادب میں سنگ میل کا کردار ہمیشہ قابلِ تحسین رہا ہے—چاہے وہ کلاسیکی ادب کی طباعت ہو یا معاصر لکھاریوں کی تازہ تخلیقات کو منظرِ عام پر لانا ہو، سنگ میل نے ہر دور میں معیار اور بصیرت کا ثبوت دیا ہے۔ ’’بند دروازہ‘‘ کی اشاعت ان کے اسی وژن کا تسلسل ہے۔

دروازے بند ضرور ہیں، مگر ڈاکٹر ہمایوں کی تحریر ان بند دروازوں کے پیچھے چھپے سچ کو روشنی میں لانے کی ایک کوشش ہے – ایک جرأت مندانہ، حساس اور فنکارانہ کوشش۔

D
Dr Sajid Hasan Butt
بند دروازہ۔

برادرم ڈاکٹر محمد ہمایوں کا نیا افسانوی مجموعہ۔
اس کتاب میں بارہ افسانے ہیں۔ میں ان چند خوش قسمت لوگوں میں ہوں، جنہیں یہ کتاب تحفتہ" بھیجی گئی۔ مصنف کی اس محبت کا میں ہمیشہ ہی سے قدردان رہا ہوں اور اس میں الحمدللہ وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے۔
کتاب کی طباعت انہتائی اعلی معیار کی ہے۔ ہمایوں کی غیر معمولی تحاریر یقینا" اسی قابل ہیں کہ انہیں اس سے بھی زیادہ دیدہ زیب انداز میں پیش کیا جائے۔ سنگِ میل پبلشرز شکریے اور مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے یہ کام انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ میرے خیال میں انہیں اپنی اس پیشکش پر، بجا طور پر فخر کرنا چاہئیے۔
میں نے کتاب کا آغاز سرورق والے افسانے ہی سے کیا۔
افسانے کا انداز بیان ہمایوں کی مخصوص شستہ زبان لئیے ہوئے ہے۔ موتیوں کی طرح پروئے ہوئے فقرے اور دل خوش کن تراکیب۔ پڑھتے ہوئے قاری کے ذہن میں قرونِ وسطیٰ کے بغداد شہر کی گلیاں اور بازار سج جاتے ہیں اور انسان اپنے آپ کو انہی لیل و نہار میں گھومتا پھرتا محسوس کرتا ہے۔
افسانے کی بنیاد زندگی کی ظاہریت اور موت کی اٹل حقانیت کے گرد گھومتی ہے۔ اور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا ہم واقعی کسی simulation میں تو نہیں رہ رہے؟ اس عالم رنگ و بو میں سچ کیا ہے اور فریب کیا؟ حقیقت کیا ہے اور دھوکہ کیا؟ اس مادی دنیا کی، جس میں ہمارے وقت کو ایک لمبے سفر کے بیچ ایک درخت کے نیچے مختصر سے قیام / ترویحے کی تمثیل سے بیان کیا گیا ہے، اس سے نکلنے کا جو بند دروازہ ہے، اس کے پیچھے کیا ہے؟
اس دروازے سے نکلنا تو یقینا" ایک اٹل سچ ہے۔ اور غالبا" یہی ایک وہ چیز ہے جس کے بارے میں کسی بھی ذی روح کو کوئی بھی غیر یقینی نہیں ہے۔
اس ادق فلسفیانہ گتھی کو ہمایوں نے انتہائی چابک دستی سے بیس صفحات میں سمیٹا ہے۔ اور اس دلچسپ پیرائے میں، کہ اگر میرے بس میں ہو، تو اس کو ایم اے اردو کے نصاب میں شامل کر دوں۔
مجھے یقین ہے کہ باقی کے گیارہ افسانے بھی اسی معیار کے ہوں گے۔ ہمایوں نے اردو زبان پر جو احسان کیا ہے وہ یہ کہ انہوں نے ادبی معیار کو بلند رکھا، اور موضوع سخن وہ سوال ہیں جن کے بارے میں ہر ذی شعور انسان لامحالہ سوچتا ہے۔ اگر آپ بھی ان لوگوں میں آتے ہیں اور زبان کے چٹخارے سے بھی محظوظ ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو ڈاکٹر صاحب کی کہانیاں ضرور پڑھنی چاہئیں۔
کتاب پڑھ کر یہ بھی یقین ہو جاتا ہے کہ الحمدللہ، آنے والی نسل اردو زبان کی ترویج و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

م
مشتاق علی شاہ
شدید سیاسی

سرکار بنام خر پڑھنے کے بعد مذید پڑھنا بیکار ہے ۔ مجھے ہمیشہ سے یہ اندیشہ تھا کہ مجھے شائد گدھا بنایا جا چکا ہے لیکن نا کسی سے ذکر کر سکتا تھا اور نا ہی شرما شرمی کسی نے یہ باور کرایا ۔ یوں کھلے عام اس بات کا چرچا کرنے پر ڈاکٹر ہمایوں خٹک کے خلاف مقدمہ درج کرنے جا رہا ہوں اپنی اس دلآزاری کا اور معاشرے میں جو سبکی کا اندیشہ پیدا ہو چکا ہے اس کا الگ حرجانہ ہو گا

S
Shariq Ali
قابل قدر مصنف قابل قدر اضافہ

"بند دروازہ" تصنیف
ڈاکٹر محمد ہمایوں

تبصرہ:
شارق علی
ویلیو ورسٹی

ڈاکٹر محمد ہمایوں ایک مصروف پیشہ ور طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کہنہ مشق ادیب بھی ہیں۔ ان کی تازہ تصنیف بند دروازہ کا مطالعہ میرے لیے ایک خوشگوار اور فکری طور پر بامعنی تجربہ ثابت ہوا۔ یہ ان کی دوسری کتاب ہے، جو سنگ میل پبلی کیشن جیسے معتبر ادارے سے شائع ہوئی ہے، اور اردو ادب کے تجربہ کار ناقدین کے خیالات بھی اس کی فلیپ پر درج ہیں، جو اس کتاب کی اہمیت اور قدر و منزلت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ہمایوں کی اردو زبان پر گرفت حیران کن ہے۔ ان کی تحریر میں نہ صرف فنی پختگی موجود ہے بلکہ ان کے اسلوب میں فارسی، عربی اور کلاسیکی اردو ادب کی گہری چھاپ بھی نظر آتی ہے۔ ان کی کہانیوں کا طرزِ بیان داستانی ادب سے متاثر دکھائی دیتا ہے، جو نہ صرف اردو کی روایتی خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس کے محاوروں، روزمرہ اور متروک بول چال کو بھی نئی زندگی عطا کرتا ہے۔ یہی پہلو اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ یہ جدید دور میں بھی کلاسیکی اسلوب کی جھلک دکھاتی ہے، بغیر کسی غیر ضروری جدت یا تصنع کے۔

اس کتاب کی کہانیاں محض بیانیہ نہیں، بلکہ ان میں گہری فکری اور فلسفیانہ جہتیں بھی موجود ہیں۔ ڈاکٹر ہمایوں کے اندرونی رجحانات میں صوفی ازم، فلسفہ اور انسانی نفسیات کی جھلک نمایاں ہے۔ یہ عناصر ان کی تحریروں میں گہرائی پیدا کرتے ہیں اور قاری کو نہ صرف محظوظ کرتے ہیں بلکہ غور و فکر پر بھی مجبور کرتے ہیں۔

بند دروازہ ان قارئین کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے جو اردو زبان کو اس کی صحت کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں اور داستان طرازی کے قدیم فن کی جھلک جدید دور میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر ہمایوں نے اپنی کہانیوں میں اردو زبان و ادب کی کلاسیکی روایت کو محفوظ کرنے کا جو کارنامہ انجام دیا ہے، وہ لائق تحسین ہے۔ یہ کتاب اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے نہایت دلچسپ اور قابلِ مطالعہ ہے، اور اردو کے خوبصورت محاوروں اور زبان و بیان کی درستی کے ساتھ ساتھ، کہانی کہنے کے قدیم اور منفرد انداز کو بھی زندہ رکھنے کی ایک بہترین کوشش ہے۔

یہ کتاب نہ صرف ایک عمدہ ادبی تخلیق ہے بلکہ اردو زبان کے تحفظ اور فروغ میں ایک اہم سنگِ میل بھی ہے۔ ڈاکٹر ہمایوں کو اس قیمتی ادبی کارنامے پر جتنا بھی سراہا جائے، کم ہے۔

S
Sayd Javed Taqi
منفرد کتاب، منفرد انداز

بند دروازہ از ڈاکٹر ہمایوں ایک منفرد اور گہرے معنی رکھنے والی کتاب ہے جو انسانی نفسیات، جذباتی کشمکش اور زندگی کے غیر متوقع موڑوں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ کہانی کا انداز سادہ مگر پُراثر ہے، جو قاری کو ابتدا سے لے کر آخر تک اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔ ڈاکٹر ہمایوں کی زبان میں روانی اور اسلوب میں گہرائی موجود ہے، جو اسے عام ناولوں سے ممتاز بناتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ایک دلچسپ کہانی پیش کرتی ہے بلکہ قاری کو سوچنے اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ اگر آپ نفسیاتی کہانیوں اور سنجیدہ ادب کے شوقین ہیں، تو بند دروازہ یقینی طور پر آپ کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔

پ
پروفیسر ڈاکٹر وحید الزمان طارق
داستان کی باز یافت

جھے انتہائی فخر ہے کہ میرے لا تعداد شاگردوں میں سے ڈاکٹر ہمایوں ان چند میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف فنِ طب کی خدمت کی بلکہ ادب کی خدمت میں بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ زیر نظر کتاب بند دروازہ ، ڈاکٹر ہمایوں کے منتخب افسانوں پر مشتمل ہے جس میں آپ کو افسانہ نگاری کی تمام جزئیات بدرجہ کمال پڑھنے کو ملیں گی۔
علامت نگاری ، جدت اور قدامت گویا کہانی پرانی طرز کی ہے مگر آج کی بات بیان کی گئی ہے۔ ہر کردار اتنا متحرک ہے کہ قاری واقعہ میں گم ہو کر اسے اپنی ہی کہانی محسوس کرتا ہے۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

Q
Qasim Khan
Great book after such a long time

Band Darwaza by Dr. Humayun is a captivating collection of Urdu short stories that masterfully blend suspense, psychological depth, and human emotions. Each story in the book leaves a lasting impression, but Daagh stood out as particularly powerful, weaving a haunting narrative that lingers in the mind long after reading. Dr. Humayun’s storytelling is both evocative and immersive, painting vivid scenes with his words while exploring the complexities of human nature. The book as a whole is a testament to his skill in crafting gripping tales that keep the reader engaged from start to finish.

S
Syeda Zainab Kamzi
A new start in Urdu Short story

This book has combination of short stories written in classic Urdu and modern prose. I think this book deserves a salute that it has attempted to revive the classics language. The Story "Sandooq" has an unexpected twist and Narmala is about the current politics but cleverly crafted in 1937. I liked the "sarkar baname Khar, funny story. Humayun Sahib has a diverse approach to life I think (he is a physician somewhere in England) and that is visible amply in his writing. Well done sir. Karachi is proud of you that you write about Pak and Urdu speaking community as well.

T
Tahir Nadeem
A masterpiece.

It is amazing to see such excellent quality literature. The first book " Pas e deewar" brilliant and this one is even better.
Delightful !

S
Sohail Aslam

Band Darwaza - Dr. Muhammad Humayun