{"product_id":"salam-skardu-mustansar-hussain-tarar","title":"Salam Skardu - Mustansar Hussain Tarar","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eپچھلی شب میں نے خواب میں دیکھا کہ حشوپی کے سیبوں کے باغ کا اخروٹ کے تختوں سے تراشا ہوا،برفوں سے شکستہ ہوتا ہوا پھاٹک دھیرے دھیرے کُھل رہا ہے.اور اُس کے اندر سے پکے ہوئے سیبوں اور خوبانیوں کی خمار آلود مہک چلی آرہی ہے اور اس مہک میں آمیزش ہے غشپ پرندوں کے چہچہانے کی اور یوں خوشبو اور چہکار کی ایک سمفنی میرے کانوں میں ایک مدھ بھرا جام اُنڈیل رہی ہے.. اس سمفنی کے پس منظر میں دریائے برالڈو کے پانیوں کی سرگوشیاں بھی سُنائی دے رہی ہیں..\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eپچھلی شب میں نے خواب میں اشکولے کے کوّگھروندے کی ایک سالخوردہ کھڑکی کے پَٹ ہولے ہولے ُکھلتے دیکھے.. ایک سرگوشی ہوئی’’ہیلو‘‘\u003cbr\u003eعمر رسیدگی میرے کانوں کے پردوں کو ایک قدیم مخطوطے کے اوراق کی مانند خستہ کررہی تھی، مُجھے کم سُنائی دیتا تھا اور اس کے باوجود مُجھے وہ ’’ہیلو‘‘ سُنائی دے گیا اس لئے کہ میں خواب میں ہوں اور خواب عُمر کے زوال سے آشنا نہیں ہوتے، اُن میں آپ کے تمام حواس نوخیزی کی کونپلوں کی مانند کنوارے رہتے ہیں..\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eپچھلی شب میں نے اشکولے سے طویل برفانی مسافتوں کے بعد برف کی جھیل میں سے اُبھرے ہوئے درہ ہیسپر کو خواب میں دیکھا.. میں اُس کی برفیلی بلندی پر کھڑا ہوں اور میرے قدموں تلے نشیب میں سنوسلیک کا پھیلاؤ ہے، شفاف منجمد آسمان پر ایک ماہتاب ٹھٹھرتا تھا اور اُس کی ٹھٹھرتی ہوئی کرنیں تاحد نظر پھیلی ہوئی سنولیک پر بچھتی چلی جاتی ہیں.. اور درہ ہیسپر کی بلندی سے میں نے نیچے دیکھا تو چاندنی میں نہائی ہوئی برف کی جھیل پر ایک خیبر سوزوکی چلی آرہی ہے..دروازہ کُھلتا ہے، میمونہ کار سے باہر آکر اوپر میری جانب نگاہ کرتی ہے..تم یہاں کیا کررہے ہو، آؤ گھر چلیں..\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eاور خپلو کے قدیم قلعے کا موسموں کی شدتّوں کا مارا ہوا پھاٹک چرچراتا ہوا کُھلتا جاتا ہے پچھلی شب میں نے خواب میں دیکھا..اور اِک باغ ہے اُسی خواب میں کسی خیال میں جس کے چیری کے درختوں پر بُلندی سے دُھند اتر رہی ہے اور اُن درختوں کے گیلے تنے گھنی خود رو گھاس میں سے بُلند ہورہے ہیں..چیری کے سُرخ چہرے ٹپ ٹپ گرتے اُس ہریاول کچور گھاس میں گر کر دفن ہوجاتے ہیں، اُن میں سے کُچھ ایک برفانی نالی کے بہاؤ میں گر کر بہتے جاتے ہیں..اور ایک سفید سوہنا گھوڑا کھڑا ہے، تنی ہوئی کنوتیوں والا شاندار گھوڑا جس کے سُم گھاس کے گھنے پن میں روپوش ہیں.. بُلندی سے اترتی دُھند میں گھوڑے کے بدن کی سفیدی ُگھل جاتی ہے اور وہ پگھل کر برفانی نالی میں چیریوں کے ساتھ بہہ جاتا ہے..اور اس خواب کے اختتام پر خپلو کے قلعے کا کُھلا پھاٹک ہولے ہولے مُجھ پر بند ہوجاتا ہے.. آئندہ اٹھارہ بیس برس کے لئے..\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cbr\u003eپچھلی شب میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بھی سندباد جہازی کی مانند ایک جزیرے میں قید تھا، میں اس قید سے آزاد ہوناچاہتا تھا لیکن مُجھ میں سکت نہ رہی تھی، سند باد جہازی بہت بُوڑھا ہوگیا تھا.اور پھراُس جزیرے میں ایک جہازی سائز کا پرندہ اترتا ہے اور میں اپنے آپ کو اُس کے پنجوں سے باندھ لیتا ہوں اور وہ پرواز کرنے لگتا ہے.. مُجھے آزادی کی وادیوں کی جانب لئے جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ نیچے صحرا اور سمندر نہیں گزر رہے..برف زاروں کا ایک جہان ہے جو گزرتا جاتا ہے.. دنیا کی بلند ترین چوٹیاں برفوں میں ڈھکی گزرتی جاتی ہیں..ان برف زاروں کی وسعت میں ایک ہولناک ویرانی کا راج ہے اور میں خوفزدہ ہوجاتا ہوں.. اگر میں اس پرندے کے پنجے کی گرفت سے میں آزاد ہوجائوں، میرا بندھن ڈھیلا پڑ کے کُھل جائے تو کیا ہوگیا.اس برف کی سلطنت میں تنہا بھٹکتا پھروں گا،کبھی باہر نہ جاسکوں گا.. مُجھے ڈر لگنے لگتا ہے.. میرے اندر خوف بھر جاتا ہے.. اور اُس کیفیت میں مُجھے کُچھ آوازیں سُنائی دیتی ہیں جنہیں میں جانتا ہوں، کُچھ چہرے دکھائی دینے لگتے ہیں جن سے میں شناسا ہوں. تب میں اُس خواب سے جاگتا ہوں جو خواب نہیں تھا، حقیقت تھا.. \u003cbr\u003eاور میں واقعی اڑا جارہا ہوں لیکن سند باد جہازی کی مانند ایک جہازی پرندے کے پنجوں سے بندھا ہوا نہیں بلکہ ایک جہاز میں، جیٹ ہوائی جہاز میں دنیا کی سب سے حیرت ناک برفانی پرواز کا مسافر ہوں..\u003cbr\u003eمیں خواب میں نہیں حقیقت کے خمار میں ہوں..\u003cbr\u003eمیں سکردو جارہا ہوں..\u003cbr\u003eمیں لاہور سے براہِ راست سکردو جارہا ہوں.\u003cbr\u003eستاسی برس کی عمر میں بوڑھا داستان گو پھر سے پہاڑوں میں جارہا ہے..\u003cbr\u003e’’خواتین و حضرات تھوڑی دیر میں ہم سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے والے ہیں..براہ کرم سیٹ بیلٹ باندھ لیجئے اور..‘‘\u003cbr\u003eپرندہ مُجھے جزیرے کی قید سے اٹھا کر لے آیا تھا...\u003cbr\u003eبوڑھا اپنے پہاڑوں کے لئے اداس ہوچکا تھا..\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eTitle: Salam Skardu - سلام سکردو\u003cbr\u003eAuthor: Mustansar Hussain Tarar - مستنصر حسین تارڑ\u003cbr\u003eSubject: Travel, Safarnama\u003cbr\u003eISBN: 9693538188\u003cbr\u003eLanguage: Urdu\u003cbr\u003eYear of Publication: 2026\u003cbr\u003eNumber of pages: 205\u003c\/p\u003e","brand":"Sang-e-meel Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67421576397049,"sku":"9693538188","price":1650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0119\/4776\/9918\/files\/salamsakardu-front.jpg?v=1792472740","url":"https:\/\/sangemeel.shop\/products\/salam-skardu-mustansar-hussain-tarar","provider":"Sang-e-meel Publications","version":"1.0","type":"link"}