Tareekh Ki Azeem Feminist Auratein - Naeem Mirza


Price:
Regular priceRs. 2,200.00 Sale priceRs. 1,650.00

Description

پیش لفظ

یہ کتاب ان عظیم عورتوں کی جدوجہد اور حالات زندگی کے متعلق ہے، جنہوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں، پدر سری نظام، مذہب، فلسفے اور علم و ادب کی سطح پر عورت مخالف تصورات کو چیلنج کیا، عورتوں کی نجات اور آزادی کے لیے آواز اٹھائی، مقامی اور عالمی دونوں سطحوں پر نظریات تشکیل دئیے، تنظیمیں بنائیں اور تحریکیں منظم کیں۔ انہوں نے رائج الوقت نظریوں،ان کے مبلغین اور حکمرانوں کو بے خوفی کے ساتھ للکارا۔ انہوں نے نئے خیالات کی بنیاد رکھی۔ یہ سب کچھ کرتے ہوئے انہوں نے وہ نقطئہ نظر اختیار کیا، جسے بعد میں فیمنزم یا فیمنسٹ نقطئہ نظر کہا گیا۔


ان عورتوںنے اپنے زمانے اور آنے والے زمانوں کی عورتوں کے حقوق کیلئے اپنی زندگیاں وقف کیں۔ انہوں نے تاریخ کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں عورت کی آزادی کے چراغ جلائے اور عورتوں کی نئی تاریخ رقم کی۔ یہ انقلابی اور باغی عورتیں تھیں، اسلئے ان کو وہ سب صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، جن کا انقلابیوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی کردار کشی کی گئی، ان کے راستے میں ہر طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، قید میں ڈالا گیا، قتل کیا گیا اور پھانسی پر چڑھایا گیا، لیکن وہ اپنے نظریات پر پختہ اور ارادے میں ثابت قدم رہیں۔ ان عورتوں نے جنس، رنگ، نسل، ذات پات اور طبقہ کی بنیاد پر ہر طرح کی تفریق کی مزاحمت کی اور عورتوں کو ان کے قانونی حقوق، سماجی اور معاشی انصاف اور امن کی راہیں دکھائیں اور خود ان راہوں پر سب سے پہلے چل کر دکھایا۔


یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ پہلی جلد کے تین حصے ہیں۔ اس میںدس ابتدائی فیمنسٹ، اصلاح پسندفیمنسٹ اور عورتوں کے حق رائے دہی کی تحریک کی بانی عورتوں کے حالات زندگی اور جدوجہد شامل ہے۔ ان کا زمانہ یورپی نشا ء ۃ ِثانیہکی آمد سے لے کرہندوستان میں بیسیویں صدی کی پہلی دہائیوں تک پھیلا ہوا ہے۔


پہلی جلد کے نو ابواب میں شامل ہیں:کرسٹین دی پیزاں ازمنہ ء وُسطیٰ کے آخری دور کی اطالوی نژاد فرانسیسی مو ء رخ، ادیب اور شاعر تھی؛ اولیمپ دی گوژ اٹھارہویں صدی کی آخری دہائیوں کی فرانسیسی ڈرامہ نگار، صحافی، دانشور اور سیاسی کارکن تھی؛ میری وولسٹن کرافٹ اٹھارہویں صدی کی برطانوی فیمنسٹ مفکر، مصنف اور دانشور تھی؛ سوجرنر ٹروتھ انیسویں صدی میں غلامی کے خاتمے اور عورتوں کے حقوق کی ایک دلیر افریقی امریکی رہنما تھی؛ساوتری بائی پھلے انیسویں صدی کے غیر منقسم ہندوستان کی پہلی ہندوستانی استاد اوربہادر سماجی اصلاح پسند رہنما تھی؛ رقیہ سخاوت حسین انیسویں اور بیسویں صدی کے غیر منقسم ہندوستان کی بنگالی فیمنسٹ مصنف اوراصلاح پسند سماجی اور سیاسی کارکن تھی؛ ا لزبتھ کیڈی سٹینٹون اور سوزن بی انتھونی انیسویں صدی میں امریکا میں عورتوںکے حقوق اور بالخصوص ان کے ووٹ کے حق کی تحریک کی بانی تھیں؛ کلارا زیٹکن انیسویں صدی کی آخری اور بیسویں صدی کی پہلی دہائیوں کی جرمن سوشلسٹ فیمنسٹ، انٹرنیشنل کمیونسٹ، جنگ اور فسطائیت دشمن رہنما  تھی اور؛  ایمیلین پنکھرسٹ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں برطانیہ میںعورتوں کے ووٹ کی جنگجویانہ تحریک کی رہنما تھی۔


بلاشبہ حق و ظلم کے معرکوں اور اقتدار کی جنگوں کے حوالے سے تاریخ میں ایسی کئی نامور اور قابل احترام خواتین کے نام ملتے ہیں، جنہوں نے آزادی، حق اور انصاف کیلئے ڈٹ کر ظلم و جبرکا مقابلہ کیا۔ بعض سرخرو ہوئیں اور بعض نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان میں مشرق میںحضرت عائشہؓ، حضرت زینبؓ،حضرت خنساء کریمؒ،حضرت  رابعہ بصریؒ ، رضیہ سلطانہ، رانی جھانسی، پنڈتا رامابائی، قرۃ العین طاہرہ اور ملالہ میوند کچھ نام ہیں اور مغرب میں اور بہت سے نام ہیں، جیسے جون آف آرک، سینٹ لوسی، این ایسکیو، روزا لکسمبرگ اور میرابل سسٹرز۔ ان کی ایمان کی قوت، اپنے نظریات پریقین، دلیری اور مزاحمت مثالی ہے اور تاریخ ان کو ہمیشہ تحسین، عقیدت و احترام سے یاد کرے گی۔


تاہم ،ہمار ی کتاب کا موضوع فیمنزم اور عورتوں کی آزادی اور حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی شخصیات ہیں۔ کئی فیمنسٹوں کا ذکر ہم نے مختلف ابواب میں انکی آراء کے حوالے سے کیا ہے،جن میں جین آسٹل، ورجینیا وولف، ایما گولڈ مین، سیمون دی بواراور گرڈا لرنر کے علاوہ کئی معاصرفیمنسٹ، جیسا کہ جولیٹ میچل، اینجلا ڈیوس،کمبرلے کرین شا، ڈاکٹر امرتیاسین، عائشہ جلال، بنگلہ دیش کی فیمنسٹ ادیب روشن جہاں، ارون دھتی رائے، چندرا تالپدے موہانتی ، کشور ناہید، ز۱ہدہ حنا اورحنا جیلانی شامل ہیں۔


پہلی جلد میں ہماری جانکاری اور تحقیق کا محور مغربی یورپ، امریکا اور غیر منقسم ہندوستان رہا ہے۔ ان خطوں کی ممتاز فیمنسٹوں کے کارناموں اور تحریروں کو تحقیق، تنقید، تبصرے اور انکی خدمات کے اعتراف کے مختلف حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ان کے کام اور تحریروں کوان کے اپنے الفاظ میں کہیں کہیں طویل اقتباسات کی شکل میں پیش کیا گیا ہے تاکہ ان کا نقطئہ نظر صراحت کے ساتھ قارئین تک پہنچ سکے۔کچھ ابواب میں بعض اہم تاریخی دستاویزات کے مکمل متن یا تفصیلی اقتباسات پیش کیے گئے ہیں۔یہ کتاب لکھنے کا ایک بڑا مقصدان عورتوں کی تحریروں اوران کے کارناموں کواردو زبان میںمحفوظ کرنا ہے ۔


مذکورہ کتاب لکھنے کا اصل محرک تو فیمنسٹ لٹریچر کے مطالعہ کے دوران ان عظیم شخصیات سے ملاقات اور ان کی تحریروں اور جدوجہد سے حاصل کردہ تحریک تھی، دوسرے اردو زبان میں ان پر زیادہ مفصل کام نظر نہ آیا۔پھر ایک سبب وہ مایوسی اور بے چینی بنی کہ کتابوں کی دکانوں اور لائبریریوں میں جدھر دیکھو ، ہر طرف اردو اور انگریزی میں ’مردوں کے کارناموں‘ پر کتابیں قطار در قطار سجی نظر آتی ہیں، جن میںبیشتر ان مرد ’فاتحین اور حملہ آوروں ‘ کے بارے میں ہیں ، جنھوںنے دنیا کو جنگ وجدل اور تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔


کتاب کی دوسری جلد میںبیسویں صدی کی فیمنسٹوں، ان کی زندگی، جدوجہد اور نظریات پرابواب ہوں گے۔ بیسویں صدی کی دوسری دہائی کا ایک اہم واقعہ روس میں اشتراکی انقلاب تھا۔ تاریخ میں مزدوروں اور کسانوں کے اس پہلے انقلاب نے دنیا بھر کے محنت کشوں کو عزم و ہمت کی ایک نئی سرشاری میں مبتلا کردیا تھا۔ اس انقلاب کا آغاز 8 مارچ کو پیٹروگارڈ سے عورتوں نے کیا تھا۔نادژدا کونسٹنٹینوا کروپسکایا اور آلیکسنڈراکولونتائی انقلاب کے ہراول دستے میں شامل تھیں ۔


ترکی میں خلافت عثمانیہ کے آخری دور اور کمال اتاترک کے جمہوری انقلاب کے دوران اور اس کے بعد فاطمہ علی خانم، نازیہ محی الدین اور خالدہ ادیب خانم نے عورتوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کے باب رقم کیے۔ ترکی میں 1926 میں کثرت ِازدواج پر پابندی لگائی گئی اور 1930 میں عورتوں کو ووٹ کا حق ملا، جو اس وقت تک کئی اہم یورپی ممالک میںعورتوں کو حاصل نہ تھا۔
مصر میں ہدیٰ شعراوی، مالک حفنی ناصف اور نبویہ موسیٰ نے  1923میں ’مصری فیمنسٹ یونین ‘ (Egyptian Feminist Union) کی بنیادرکھی۔انہوں نے عورتوں کے لیے تعلیم اور سیاسی حقوق کی تحریکیں شروع کیں۔ ایران میں 1910 کے آئینی انقلاب کے دوران اور اس کے بعد عورتیں بڑی متحرک تھیں۔ بی بی خانم استرآبادی، محترم اسکندری ، صدیقہ دولت آبادی اور زندوخ شیرازی اس دور کی اہم رہنما تھیں، جنہوں نے عورتوں کے لیے اسکول کھولے اور ’جمعیت نسوان وطنخواہ‘ اور’عورتوں کی انقلابی ایسوسی ایشن ‘ نامی تنظیمیں قائم کیں ۔


ہندوستان میں بھی لگ بھگ اسی دورمیں اصلاح پسند عورتوں نے عورتوں کی تعلیم کے لیے اقدامات اٹھائے اور اسکول کھولے۔ انہوں نے برطانوی راج کے خلاف بڑی سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کی اور عورتوں کی تنظیمیں تشکیل دیں، جن میں’ آل انڈیا ویمنز کانفرنس‘، ’ویمنز انڈیا ایسوسی ایشن ‘ اور ’انجمن خواتین ِاسلام‘ شامل تھیں۔ تارا بائی شندے، کامنی رائو، مس سوسی سہراب جی، چاند بیگم، شریفہ حامد علی، بیگم عطیہ فیضی، زہرہ بیگم فیضی، سروجنی نائیڈو، ڈاکٹر رشید جہاںاور عبادی بانو بیگم (بی اماں) آزادی کی تحریکوں ، عورتوں کی تعلیم اور انکی انجمن سازی میں پیش پیش تھیں۔


تحریک ِپاکستان میں محترمہ فاطمہ جناح، بیگم ایم اصفہانی، بیگم عیسیٰ، بیگم سلمیٰ تصدق حسین اور لیڈی ہارون سمیت کئی خواتین نے مسلم لیگ میں عورتوں کو منظم کیا۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں بیگم جہاں آراء شاہنواز اور بیگم شائستہ اکرام اللہ نے عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اُٹھائی۔ 1949 میں بیگم رعنا لیاقت علی نے آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا) کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد عورتوں کی سماجی فلاح و بہبود تھا۔اسی زمانے میں انجمن جمہوریت پسند خواتین وجود میں آئی، جو مارکسی رجحانات کی حامل تنظیم تھی ۔ اس کی قیادت طاہرہ مظہر علی خان کررہی تھیں۔


دوسری جنگ ِعظیم کے خاتمے کے بعد 1949 میں سیمون دی بوار کی ’’دوسری جنس‘‘ اور 1960 میں بیٹی فریڈین کی ’’نسوانی اسرار‘‘ نے فیمنزم کی پہلی لہر کا سیلابی دروازہ کھول دیا۔ 1980-1990 میں تیسری لہر آئی۔ ان دہائیوں میں فیمنسٹ عورتوں نے تحقیق، نظریہ سازی اور تحریکوں کے ذریعے لبرل فیمنزم، سوشلسٹ فیمنزم اور ریڈیکل فیمنزم کی آبیاری کی۔ اسی زمانے میں ’نجی دائرہ‘ ’سیاسی دائرے‘  (Personal is Political) میں مدغم ہوا۔فیمنزم کی تیسری لہر کے دوران 1990 میں مابعد نو آبادیاتی فیمنزم ماحولیاتی فیمنز م، اسلامک فیمنزم ، دلت فیمزم اور بلیک فیمنزم کے نظریات پھلے پھولے اوریورپ میں ـ’گھریلو کام کی تنخواہ‘ کی تحریک نے زور پکڑا۔  1989 میں ’انٹرسیکشینیلٹی‘ (intersectionality) کے تصور نے فیمنزم کے عصری مباحث میں ایک انقلاب برپاکر دیا۔ ’فرق فیمنزم‘، ’شناخت فیمنزم ‘ اور کئی دوسرے تصورات کے ساتھ صنف (جینڈر) کی بحث عام ہوئی۔ صنف کی معاشرتی تشکیل نے پدر سری نظام، نظریے اور اسکی اقدار کو سمجھنے میں مدد کی۔


اسلامی تاریخ میں عورتوں کے کردار اور بالخصوص’عورتوں کے حقوق‘کے حوالے سے زیادہ تر تحقیقی کام بیسویں اور اکیسویں صدی میں ہوا ہے۔مراکشی فیمنسٹ فاطمہ مرنیسی نے 1975 میں’حجاب سے پرے‘ لکھ کر مشرق ِوسطیٰ میں ’اسلامی فیمنزم‘ کے تناظر میں تہلکہ مچا دیا۔ مصری نژاد امریکی مفکر لیلیٰ احمد نے 1992میں لکھی جانے والی کتاب ’ عورت ، جینڈر اور اسلام‘ میں ماقبل اسلام کے عرب، مصری، رومن اور یونانی معاشروں اوربعد ازاں اسلامی دور میں عورت کی حیثیت پر تاریخی شواہد کی مدد سے سیر حاصل بحث کی۔2011  میں پاکستانی فیمنسٹ مفکر فریدہ شہید اور عایشہ لی شہیدکی کتاب ’’ہماری اجداد: مسلم تناظر میں عورتوں کی اپنے حقوق کی بازیابی‘‘ شائع ہوئی۔ یہ کتاب اسلامی تاریخ میںآٹھویں صدی سے لے کربیسویں صدی تک دنیا کے تقریبا ًتمام خطوں سے مشہور عالم، ادیب، معلم اور مفکر عورتوں کی شخصیات کے حالات ِزندگی اوران کی خدمات کو محفوظ کرتی ہے۔گذشتہ صدی کے اواخر میں مصری مصنف، فعال سماجی کارکن اور ماہر نفسیات نوال السداوی نے مشرق ِوسطیٰ میں فیمنسٹ نظریات کی آبیاری کی۔انہوں نے 1972 میں’عورتیں اور جنس‘ سمیت کئی کتابیں لکھ کرمسلم معاشرے میں عورتوں کے مسائل پر بحث کی۔

 
مذکورہ کتاب کی تحقیق و تحریر کے دوران نظریے سازی کی کلیدی اہمیت کے علاوہ تنظیموں، اداروں اور مشترکہ پلیٹ فارموں کی تشکیل اور تحریکوں کی ناگزیر اہمیت کا احساس ایک بنیادی شرط کے طور پر ابھرا ہے۔ تحریک کے بغیر نظریہ محض ایک سوکھا درخت ہے۔ آج بھی ایسی رضاکار تنظیمیں اور مشترکہ پلیٹ فارم ہرخطے اورہر ملک میں موجود ہیں۔ افریقہ، لاطینی امریکا میں عورتوں کی تحریکیں اور نیٹ ورک بڑے مضبوط ہیں۔ پاکستان میں جدید فیمنسٹ تحریک کی بنیاد خواتین محاذ عمل (ویف۔ Women's Action Forum) نے 1981 میں رکھی۔ انجمن جمہوریت پسند خواتین اور سندھیانی تحریک کی عورتوں نے مختلف ادوارمیںآمریتوں کا  ڈٹ کرمقابلہ کیا ۔ سیاسی جماعتوں کی خواتین ، شاعر، ادیب، صحافی، وکیل اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی عورتیں ان کے شانہ بشانہ تھیں۔ جنو بی ایشیا کی سطح پر ’سنگت‘  (SANGAT) فیمنسٹ استعداد کاری کا متحرک پلیٹ فارم ہے۔عالمی سطح پر ویمنز لرننگ پارٹنر شپ (Women's Learning Partnership) فیمنسٹ پلیٹ فارم ہے۔ان کے علاوہ مساوہ (Musawah) اور AWID  جیسے پلیٹ فارم ہیں۔ ان پلیٹ فارموں سے فیمنزم کی تحریکوں اور مشترکہ مقاصد کو جلا مل رہی ہے۔


عورت کی آزادی کی ایک نئی پر  ُجوش لہر نے گذشتہ کچھ عرصہ سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس کو فیمنزم کی ’چوتھی لہر ‘ بھی کہا جارہا ہے۔ عورتیںآج نئے فیمنسٹ نظریات اور تصوارات سے لیس اور نئی ہمت و توانائی کے ساتھ ہر سطح پر امتیازی قوانین اور پالیسیوں، گھریلو تشدد اورجنسی تشدد سمیت ہر قسم کے تشدد اور ناانصافی کے خلاف تحریکیں چلارہی ہیں اور قانون سازی میں حصہ لے رہی ہیں۔ وہ عالگیریت، غربت، سرمایہ داری، نسل پرستی اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف تحریکوں میں ہراول دستے کے طور پر شامل ہیں۔انہوں نے روزگار، برابر کی اجرتوں اور زمین کے حقوق کے لیے اور سیاسی نمائندگی کے لیے کامیاب کوششیں کی ہیں ۔


عورتوں کے حقوق اگر آج سے ہزارپانچ سو برس پہلے کسی کو’ناقابل تصور‘ لگتے تھے یا دو سو برس قبل ان کا حصول ’ناممکن‘ تھا، تو کوئی مانے نہ مانے آج وہ ’ناگزیر‘ ہو چکے ہیں۔ یہ ناگزیریت مرہون ِمنت ہے ان عورتوں کی جنھوں نے ایسے ادوار میں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی، جب ایسا کرنا ناقابل ِتصور اور ناممکن تھا، جب تعلیم، عدالت، سیاست سمیت سب اداروں کے دروازے ان کے لیے بند تھے۔ ہماری ان پیشرو عورتوں نے غلامی کی یہ زنجیریں توڑیں اور ہمیں نئی راہیں دکھائیں ۔


میں یہ کتاب اُردو قارئین اور نئی نسل،بالخصوص طالبات وطلباء کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اس یقین کے ساتھ کہ ماضی کی ان عورتوں کی جدوجہد ہماری مشتر کہ میراث ہے اور زادِسفربھی۔   شکریہ!     

                                            نعیم مرزا
                               اگست 2021   (اسلام آباد۔راولپنڈی)

 

Title: Tareekh ki Azeem Feminist Auratein (Hayaat, Nazariye aur Tehreekein) - First Volume

تاریخ کی عظیم فیمنسٹ عورتیں (حیات، نظریے اور تحریکیں) 1364 سے 1933 تک ایک عالمی مطالعہ
Author: Naeem Mirza
Subject: History, Feminism 
ISBN: 969353395X
Language: Urdu
Year: 2022
Number of Pages: 482 + 16 pictures

You may also like

Recently viewed

Customer Reviews

No reviews yet
0%
(0)
0%
(0)
0%
(0)
0%
(0)
0%
(0)